وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں آتشزدگی کے دردناک واقعے میں 14 بچوں کی جانیں ضائع ہونے پر متاثرہ خاندانوں کے لیے 50،50 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
یہ مہلک آگ بدھ، 26 اگست 2026 کو صبح تقریباً 6:40 بجے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (ایم سی ایچ) وارڈ کی تیسری منزل پر بھڑک اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ نوزائیدہ بچوں کے نرسری وارڈ تک پھیل گئی جہاں 15 بچے موجود تھے۔ ریسکیو ٹیموں کے آگ پر قابو پانے سے قبل ہی آکسیجن کی لائنوں کے ذریعے شعلے پھیلنے سے نو مولود بچے وہیں پھنس کر رہ گئے۔
پمز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے اس واقعے کا ذکر کیا اور "کسی کی مجرمانہ غفلت" کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔
اس سانحے کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی فوری اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو معطل کر دیا۔ وزیر اعظم آفس کی جانب سے سابق وفاقی سیکرٹری شاہد خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے 48 گھنٹوں کے اندر عبوری رپورٹ اور 5 دنوں کے اندر مکمل حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریسکیو حکام اور ابتدائی انتظامی جائزوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، آگ ایئر کنڈیشننگ یونٹ یا الیکٹرک شارٹ سرکٹ سے لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریب موجود آکسیجن کی لائنوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقاتی عمل شفافیت اور احتساب کو یقینی بنائے گا، اور غفلت کے مرتکب تمام آن ڈیوٹی اہلکاروں کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔
متاثرہ خاندانوں کے گہرے صدمے کا اعتراف کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ کوئی بھی مالی امداد ان کے نقصان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ "نہ تو ان کے بچوں کو واپس لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کا غم کم کیا جا سکتا ہے"، انہوں نے مزید کہا کہ اس امداد کا مقصد صرف رنجیدہ والدین کو کچھ سہارا دینا ہے۔
وفاقی وزیر نے پمز کا دورہ کر کے وزیر اعظم کی جانب سے ایک متاثرہ خاندان کو چیک پیش کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امداد کی تمام رقم جاں بحق بچوں کی ماؤں کے بینک اکاؤنٹس میں براہ راست منتقل کی جائے گی۔





