اسلام آباد: استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے صدر عبدالعلیم خان نے اتوار کے روز نئے صوبوں کی ممکنہ حد بندی کے حوالے سے وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اس معاملے پر سیر حاصل بحث ہونی چاہیے۔ صدر آئی پی پی کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس بننے سے عوام کے بڑھتے ہوئے خدشات و مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں حل کرنے اور گورننس کی صورتِ حال بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ علیم خان نے مزید کہا کہ ملک بھر میں عام لوگ اب بھی پینے کے صاف پانی سمیت بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جبکہ لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ہسپتالوں کی حالت زار ابتر ہے۔
علیم خان نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبے شہریوں کو صحیح خدمات فراہم کر رہے ہوتے تو یہ صورتِ حال کیوں ہوتی؟ انہوں نے کہا کہ تعصب کا چشمہ اتار کر عوام کی حالتِ زار دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معلوم نہیں منتخب نمائندے کب تک ان سوالات کے جواب دینے کے بجائے محض نعروں سے لوگوں کو بہلاتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ استحکامِ پاکستان پارٹی ہزارہ صوبے کے قیام کی حمایت کرتی ہے اور اس معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔



