کراچی: کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ایک نوجوان طالب علم پر وحشیانہ تشدد کی ہولناک ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پھیل گیا ہے۔ متاثرہ نوجوان کی شناخت علی جعفری کے نام سے ہوئی ہے جسے ساحل تھانے کی حدود خیابانِ بخاری سے اغوا کر کے دو دریا کے علاقے میں لے جایا گیا۔ یہاں ملزمان کے ایک گروہ نے دو گھنٹے سے زائد وقت تک اسے شدید جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا۔
آن لائن وائرل ہونے والی ویڈیو میں تشدد کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں، جس میں ایک حملہ آور علی کے کندھے پر بیٹھ کر بار بار اس کے سر پر کہنیاں مار رہا ہے جبکہ دیگر ملزمان اسے بیس بال بیٹ سے پیٹ رہے ہیں۔ علی کو ہاتھ جوڑ کر بے بسی سے یہ التجا کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ”ابراہیم بھائی، مجھے معاف کر دو۔“ اس تشدد کے نتیجے میں علی کی ٹانگ ٹوٹ گئی، لیکن ملزمان نے صرف مار پیٹ پر ہی بس نہیں کیا بلکہ زبردستی اس کے بال کاٹ کر اسے کھانے پر مجبور کیا اور کیمرے کے سامنے اس سے خود کو گالیاں بھی دلوائیں۔ واقعے کے بعد ملزمان نے قانونی کارروائی سے روکنے کے لیے علی کے اہلخانہ پر شدید دباؤ ڈالا اور انہیں دھمکیاں بھی دیں۔
وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ زون اسد رضا نے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے فوری تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ ساحل تھانے کے ایس ایچ او فاروق سنجرانی نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ چند روز قبل فیز 8 میں پیش آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شدید خوفزدہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ طالب علم نے ابتدا میں پولیس سے رابطہ نہیں کیا تھا، تاہم اب حکام ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی شناخت، متاثرہ خاندان سے رابطہ اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔




